مین پوری،20؍اپریل(ایس او نیوز؍یو این آئی) اترپردیش کا مین پوری ضلع آج ہندوستانی سیاست میں تقریباً24برسوں تک ایک دوسرے کے کٹر حریف رہے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے بانی ملائم سنگھ یادو اور بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی کے ایک ہی اسٹیج پر آنے کا گواہ بنا۔1995میں اترپردیش کی سیاست میں ہنگامہ برپا کردینے والے گیسٹ ہاؤز واقعہ کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب یہ دونوں لیڈرایک ہی اسٹیج پر آئے ۔ اس تاریخی واقعہ کا گواہ بننے کے لئے کرسچئن گراؤنڈ میں ہزاروں لوگ موجود تھے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی کو مرکز میں حکومت سے بے دخل کرنے کے ارادے سے ایس پی ۔ بی ایس پی کی مشترکہ ریلی میں ایس پی کے صدر اکھلیش یادو’ مایاوتی کے بھتیجے آکاش آنند اور بی ایس پی کے جنرل سکریٹری ستیش چندر مشرا سمیت کئی اہم رہنما موجود تھے ۔اس موقع پر مین پوری سے ایس پی کے امیدوار ملائم سنگھ یادو نے جلسہ عام میں بی ایس پی سربراہ کا شکریہ ادا کیا جب کہ اسٹیج پر مسٹر ملائم سنگھ کے آتے ہی مایاوتی نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ۔ مایاوتی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نقلی پسماندہ ہیں۔ جب کہ ملائم سنگھ اصلی پسماندہ ہیں ۔ انہوں نے پسماندہ طبقات کی ترقی کے لئے بہت کام کیا ہے ۔ مودی2014میں نقلی پسماندہ بن کر وزیر اعظم بن گئے اور لوگوں کو جھوٹے وعدوں میں پھنسا لیا۔ انہوں نے عوام سے جو وعدے کئے تھے ان میں سے 25فیصد بھی پورے نہیں کئے ۔ 2014میں انہوں نے کہا تھا کہ بیرونی ملکوں سے کالا دھن لاکر غریبوں کو پندرہ پندرہ لاکھ روپے دئے جائیں گے ۔ پانچ سال کی مدت پوری ہوگئی ہے اور کسی کے کھاتے میں ایک روپیہ بھی نہیں آیا۔بی ایس پی صدر نے ریلی میں زبردست ہجوم کو دیکھتے ہوئے جوش میں کہا کہ وزیر اعظم نے میرٹھ کے جلسہ میں اتحاد کو سراب کہا تھا جو درست لفظ بھی نہیں ہے ۔ شراب کو سراب بولنے والے نریندر مودی آج مین پوری کی ریلی کو دیکھیں کہ لوگ کتنے نشے میں ہیں۔ انہیں شراب کا نہیں اتحاد کا نشہ ہے اور یہ بی جے پی حکومت کو ہٹا کر ہی دم لیں گے ۔ مایاوتی نے اکھلیش یادو کو ملائم سنگھ یادو کا واحد وارث قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملائم سنگھ یادو کی وراثت کو بخوبی سنبھالا ہے ۔